23 اگست 2011 - 19:30

ليبيا کے دارالحکومت طرابلس ميں لڑائي جاري ہے - جس ميں چھے سو افراد ہلاک اور دو ہزار سے زائد زخمي ہوئے ہيں -

ابنا: ليبيا کے دارالحکومت طرابلس ميں بدھ کو دو زبردست دھماکوں سے پورا شہر لرز اٹھا۔ فرانس پريس کے مطابق يہ دھماکے اس وقت ہوئے جب طرابلس کي فضا پر نيٹو کے جنگي طيارے پرواز کررہے تھے اس لئے ممکن ہے کہ دھماکے ہوائي حملوں کي شکل ميں ہوئے ہوں- يہ دھماکے معمرقذافي کي رہائشگاہ پر انقلابيوں کے حملے کے بعد پوري رات ہونے والي لڑائي کے بعد ہوئے - ليبيا کے ايک انقلابي رہنما کا کہنا ہے کہ قذافي کے حامي فوجي ہوائي اڈے کو جانے والي سڑک کے آخري سرے پر روپوش ہوگئے ہيں - اس درميان ليبيا کي عبوري کونسل کے سربراہ مصطفي عبدالجليل نے کہا ہے کہ طرابلس ميں چار دنوں سے جاري لڑائي ميں چھ سو افراد مارے گئے ہيں جبکہ دوہزار افراد زخمي ہوئے ہيں مصطفي عبدالجليل نے ايک غير ملکي نشرياتي ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ قذافي کے حامي چھ سو فوجيوں کو گرفتار کرليا گيا ہے تاہم انہوں نے کہاکہ جب تک معمرقذافي کو گرفتار نہيں کرليا جاتا اس وقت تک جنگ جاري رہے گي -دوسري طرف ليبيا کے انقلابيوں کے ترجمان نے کہا ہے کہ انقلابي قوتوں نے ساحلي شہر راس لانوف پر بھي اپنا کنٹرول کرليا ہے جہاں تيل کي پيداوار ہوتي ہے بنغازي سے موصولہ خبروں کے مطابق انقلابيوں کے ترجمان محمد الزواوي نے کہاکہ راس لانوف شہر پرانقلابيوں کا قبضہ ہوگيا ہے اور قذافي کے حامي فوجي شہر چھوڑ کر وادي الاحمر علاقے کي جانب پسپائي اختيار کرنے پر مجبور ہوگئے ہيں جو قذافي کا آبائي وطن بھي ہے - انقلابيوں کے ترجمان کا کہنا ہے کہ راس لانوف شہر کي تيل کي تنصيبات کو کسي طرح کا کوئي نقصان نہيں پہنچا ہے جبکہ البريقہ شہر ميں جس پر پير کو انقلابيوں نے قبضہ کيا تھا صرف دو آئيل ڈپو ميں آگ لگي تھي -............

/169